Thal Express | Rawalpindi - Multan - Rawalpindi | Train | Pakistan Railways
تھل ایکسپریس 129 اپ / 130 ڈاؤن — غریب عوام کی امید، مگر سہولیات کی کمی
تھل ایکسپریس پاکستان ریلویز کی اُن اہم مسافر ٹرینوں میں شامل ہے جو جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب کو آپس میں ملاتی ہیں۔ یہ ٹرین ملتان اور راولپنڈی کے درمیان چلتی ہے اور خاص طور پر تھل اور پوٹھوہار کے علاقوں کے عوام کے لیے ایک نہایت مفید سفری سہولت ہے۔
یہ ٹرین راولپنڈی سے روانہ ہو کر گولڑہ شریف، ٹیکسلا، واہ کینٹ اور حسن ابدال جیسے تاریخی اور صنعتی علاقوں سے گزرتی ہے۔ اس کے بعد یہ اٹک کے علاقے میں داخل ہوتی ہے جہاں اٹک سٹی کے بعد بسال، جنڈ، جھمٹ، چھب اور انجرہ جیسے چھوٹے مگر اہم اسٹیشن آتے ہیں جو مقامی آبادی کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آگے چل کر تھل ایکسپریس داؤد خیل پہنچتی ہے، جو سیمنٹ انڈسٹری کی وجہ سے مشہور ہے، اور پھر میانوالی اور کندیاں جیسے بڑے تھل کے شہروں پر رکتی ہے۔ یہاں سے یہ ٹرین جنوبی پنجاب میں داخل ہو کر لیہ، بھکر، کوٹ ادو اور مظفر گڑھ جیسے اہم اضلاع سے گزرتی ہے، جہاں سے بڑی تعداد میں مسافر روزانہ اس ٹرین کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔
یہ تمام اسٹاپ مل کر تھل ایکسپریس کو حقیقی معنوں میں ایک عوامی ٹرین بناتے ہیں، جو چھوٹے قصبوں، دیہی علاقوں اور کم آمدن والے مسافروں کے لیے ایک سستی، قابلِ اعتماد اور ناگزیر سفری سہولت فراہم کرتی ہے۔
(
ملتان سے راولپنڈی):
ملتان کینٹ روانگی: 7:15 صبح
میانوالی آمد: 3:40 | روانگی: 3:42
اٹک سٹی جنکشن آمد: 9:10 | روانگی: 9:15
راولپنڈی آمد: 11:00 رات
(راولپنڈی سے ملتان):
راولپنڈی روانگی: 7:00 صبح
میانوالی آمد: 1:52 | روانگی: 1:54
اٹک سٹی جنکشن آمد:9:05 | روانگی: 9:10
ملتان آمد: 10:55 رات
تھل ایکسپریس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ دن کے وقت سفر فراہم کرتی ہے، جو مزدور طبقے، طلبہ، سرکاری ملازمین اور کم آمدن والے مسافروں کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ طویل فاصلے کے باوجود یہ ٹرین دن میں سفر مکمل کرتی ہے، جس سے رات کی پریشانیوں سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
کرایہ (اکانومی کلاس)
یہ ٹرین صرف اکانومی کلاس پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے یہ عام عوام کی پہنچ میں ہے:
ملتان سے راولپنڈی: 1350 روپے
ملتان سے میانوالی: 950 روپے
راولپنڈی سے میانوالی: 750 روپے
اگرچہ تھل ایکسپریس عوامی ضرورت کی ایک بہترین ٹرین ہے، مگر بدقسمتی سے اس کے کوچز کی تعداد کم ہے۔ اکثر اوقات ٹرین میں رش بہت زیادہ ہوتا ہے، مسافروں کو کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے اور نشستیں دستیاب نہیں ہوتیں۔
یہ صورتحال خاص طور پر تہواروں اور چھٹیوں کے دنوں میں شدید ہو جاتی ہے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ پاکستان ریلویز تھل ایکسپریس کے کوچز کی تعداد بڑھائےمکمل ریک (rake) فراہم کرے پرانے کوچز کی جگہ اپ گریڈڈ اور آرام دہ کوچز شامل کرے
اگر ایسا کر دیا جائے تو تھل ایکسپریس نہ صرف غریب عوام کے لیے بلکہ مجموعی طور پر ایک مثالی ڈے ٹرین بن سکتی ہے۔
تھل ایکسپریس واقعی اُن علاقوں کے لوگوں کے لیے زندگی کی ایک اہم لائن ہے جہاں متبادل سفری سہولیات محدود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ٹرین کو نظرانداز کرنے کے بجائے بہتر بنایا جائے تاکہ یہ عوام کی خدمت پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں کر سکے۔
#ThalExpress #PakRailtTech #PakistanRailways #Attock #Basal #Jand #Mianwali #kundian #Multan #Trains

Comments
Post a Comment